ملک کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دشت گردی، لاقانونیت،فرقہ وارانہ ولسانی فسادات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے

ڈیرہ اسماعیل خان(ایم وی این نیوز)قومی کمیشن برائے قانون و انصاف ،بین المذاہب ہم آھنگی وانسانی حقوق پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان کا اہم اجلاس زیر صد رات چیرمین (NCLIHP) ڈیرہ اسماعیل خان سید توقیر حسین زیدی منعقد ہوا۔اجلاس میں (NCLIHP) سے تعلق رکھنے والے کثیر ممبران نے شرکت کی۔اس موقع پر سید توقیر حسین زیدی نے قومی کمیشن برائے قانون و انصاف ،بین المذاہب ہم آھنگی وانسانی حقوق پاکستان کے اغراض و مقاصداور کمیشن کے تنظمی ڈحانچے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قومی کمیشن برائے قانون و انصاف ،بین المذاہب ہم آھنگی وانسانی حقوق پاکستان ملک کی تعمیرو ترقی،خوشحالی،بھائی چارے اور امن و سلامتی کی فضا کو فروغ دینا ، ملک سے فرقہ واریت، لسانی فسادات کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے کام کر رہا ہے۔کمیشن ایک مکمل غیر سیاسی ادارہ ہے جس کا مقصد صرف اور صرف انسانی حقوق کا ہر سطح پر تحفظ کرنا ہے۔ہم سب پاکستانی ہیں اور سب نے ملکر اس مملکت کو نہ صرف امن و امان کا گہوارہ بنانا ہے بلکہ اس سے تعصب کی آگ کو ختم کر کے معاشرے میں اچھی اور مثبت سوچ پیدا کرنی ہے۔انہوں نے قومی کمیشن برائے قانون و انصاف ،بین المذاہب ہم آھنگی وانسانی حقوق پاکستان کے تنظمی ڈھانچے کے حوالے سے کہا کہ (NCLIHP) کی ضلع وتحصیلوں کے ساتھ ساتھ یونین کونسلوں کی سطح پر بھی تنظم سازی کی جارہی ہے جس کیلئے ضلعی،تحصیل و یونین کونسلوں میں ممبر سازی کو بہتر بناتے ہوئے قومی خدمت ،بنیادی انسانی حقوق کے جذبے سے سرشار مخلص و باکردار افراد کو (NCLIHP) میں شامل کیا جائے جو (NCLIHP) میں شامل ہوکر ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دشت گردی، لاقانونیت،فرقہ وارانہ ولسانی فسادات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔آئے روزبم دھماکوں،خودکش حملوں،قتل وغارت،لاقانونیت،کرپشن،مہنگائی سے ملک کاہرشہری پریشان دکھائی دیتاہے پوری پاکستانی قوم عدم تحفظ کاشکار ہے۔ اب وقت آگیاہے کہ حکومت اس بارے میں سجیدگی سے کوئی حتمی فیصلہ کرے تاکہ ملک میں رہنے والے امن سے زندگی گزارسکیں۔اجلاس میں ملک میں معصوم بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکمرانوں کی ناکامی ،بے حسی قرار دیا

0 comments

Write Down Your Responses