پیسکوواپڈاکی طرف سے شہری علاقوں میں بارہ سے پندرہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں پندرہ سے بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کردی گئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان(ایم وی این نیوز) پیسکوواپڈاکی طرف سے شہری علاقوں میں بارہ سے پندرہ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں پندرہ سے بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کردی گئی‘ہسپتالوں میں زیرعلاج مریضوں کی مشکلات میں اضافہ‘تاجران کے کاروبارٹھپ ہونے لگے‘طلباء اورمساجدکوجانیوالے نمازیوں کوسخت مشکلات کاسامنا‘عوامی اورتجارتی حلقوں کاوفاقی حکومت اورچیف ایگزیکٹوپیسکوخیبرپختونخواہ سے فوری طورپرظالمانہ لوڈشیڈنگ کے فوری خاتمے کامطالبہ۔تفصیلات کے مطابق پیسکوواپڈانے غیراعلانیہ اورظالمانہ لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اچانک اضافے کااعلان کردیا۔شہری علاقوں میں پہلے ہی بارہ گھنٹے کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ ہورہی تھی لیکن اب بارہ گھنٹے کی بجائے پندرہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کوبڑھادیاگیاہے اسی طرح دیہی علاقوں میں پہلے ہی ظالمانہ طورپرپندرہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی تھی لیکن اب اس سلسلے کوبھی بڑھاکربیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کردی گئی ہے۔اچانک لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرٹیچنگ ہسپتال‘مفتی محمودہسپتال‘زنانہ ہسپتال سمیت دیگرپرائیویٹ ہسپتالوں میں زیرعلاج ہزاروں مریضوں کوسخت مشکلات کاسامناہے۔خصوصاًرات کے اوقات میں بجلی نہ ہونے کے باعث انکوسخت تکلیف کاسامناکرناپڑرہاہے۔تاجروں کے کاروبارلوڈشیڈنگ کی وجہ سے تباہ ہوکررہ گئے ہیں۔تاجرمہنگائی کے اس دورمیں لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلومعاملات چلانے کے ساتھ ساتھ اپنی دکانوں کے کرایے اداکرنے سے قاصرہیں۔تاجروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آپہنچی ہے۔سکول جانیوالے طلبہ بجلی نہ ہونے کے باعث دیرسے تعلیمی اداروں کوپہنچ رہے ہیں۔جبکہ اکثرطلبہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے سکول یونیفارم میں نہیںآرہے۔پانی نہ ہونیکی وجہ سے نمازیوں کوبھی مساجدمیں پہنچنے اورباجماعت نمازکی ادائیگی میں مشکلات کاسامناہے۔عوامی اورتجارتی حلقوں نے وفاقی حکومت اورچیف ایگزیکٹوپیسکوخیبرپختونخواہ طارق سدوزئی سے فوری طورپرڈیرہ اسماعیل خان میں ظالمانہ اورناجائزلوڈشیڈنگ کے خاتمے کامطالبہ کیاہے

0 comments

Write Down Your Responses