صوبائی حکومت کی جانب سے گنے کی نئی قیمتوں کا تعین

پشاور(محمدریحان ایم وی این نیوز)ایوان زراعت ڈیرہ کے صدر سابق نائب ضلع ناظم حاجی عبدالرشید دھپ نے صوبائی حکومت کی جانب سے گنے کی نئی قیمتوں کے تعین کے لئے بلائے گئے اجلاس میں موقف اختیار کیا کہ فرٹیلائزر ،بجلی،ڈیزل،کھادوں ،بیجوں اور کیڑے مار ادویات کی قیمتیں سال میں کئی فیصد بڑھ چکی ہیں جبکہ گنے کی قیمت170روپے فی من سے زیادہ نہ کرنا سراسر زیادتی ہے ،ملز مالکان کے اس روئیے سے کماد پیدا کرنے والے زمیندار کی حوصلہ شکنی ہو گی اور کماد کی پیداوار میں کمی سے ملک بھر میں شوگر کا بحران پیدا ہو جائے گا ۔جس سے نمٹنے کے لئے حکومت کو حکمت عملی بنانا ہو گی تو اس سے بہتر ہے کہ حکومت زمینداروں کے جائز مطالبے پر کماد کی فی من قیمت میں مناسب اضافہ کرے اجلاس محکمہ فوڈ کے دفتر واقع پشاور ڈائریکٹریٹ میں ہوا ڈائریکٹر جنرل فوڈ خیبر پختونخواہ نے اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں کماد کی پیداوار کے حامل اضلاع بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان ،مردان،پشاور،چارسدہ کی ایوان زراعت کے صدر اور صوبے میں شوگر انڈسٹریز یونٹس کے نمائندے شریک تھے حاجی عبدالرشید دھپ نے کہا کہ کماد کی پیداوار میں پیداواری لاگت پر اٹھنے والے اخراجات میں بے پناہ اضافہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کماد کی فی من قیمت بڑھائی جائے ان کا بتانا تھا کہ ہماری زمیندار کیمونٹی نے وزیر اعلیٰ کے پاس اپنا کیس پیش کرنے کی بھی تجویز دی ہے تاکہ صوبے میں قائم انصاف کی حکومت سے انصاف کی فراہمی ممکن ہو ایک سوال کے جواب میں حاجی عبدالرشید دھپ کا کہنا تھاکہ یہ تو ممکن نہیں کہ زمیندار و کسان اپنی پیداور کو آگ لگا دیں اور ملز والوں کو نہ دیں لیکن کم نقصان میں کم ریٹ پر تو دے دیں گے لیکن مستقبل میں کم پیداوار کا سامنا ہو گا کیوں کہ ملز والوں کی جانب سے قیمت میں اضافہ نہ کرنا زمینداروں کو ستانے کے سوا کچھ نہیں ۔

0 comments

Write Down Your Responses