ایسے سانحات کوکون روکے گا؟

کراچی ( پ،ر ) اربن ڈیمو کریٹک فرنٹ کے بانی و چیئرمین ناہید حسین نے سانحہ راولپنڈی پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وطن عزیزمیں موجود تمام سیاسی مذہبی جماعتیں مجھ سمیت اس سانحے پر دکھ کا اظہار تو کررہی ہیں مگرایسے سانحات کوکون روکے گا؟کیا ہم تعزیت کرکے ایک بیان دے کرمطمعن ہوجاتے ہیں؟ہمارے ضمیرتڑپتے لاشے جلتی مساجد،مدرسے اور امام بارگاہیں دیکھ کرنہیں جاگتے؟عوام کٹ رہے ہیں دہشت گرد اپنا کام دکھارہے ہیں اوربیانات سب کے ایک جیسے ہیں مذمت سب کررہے ہیں لیکن اتحاد کہیں نظر نہیں آرہاانہوں نے کہاکہ اس ملک کے دشمن یہ چاہتے ہیں کہ کہیں مذہب کی بنیادپرکہیں قومیتوں کی بنیادپرکہیں زبان کی بنیادپران کو آپس میں لڑایاجائے تاکہ پاکستان میں رہنے والے متحد نہ ہوسکیں اگر یہ متحد ہوگئے تو پھر دشمن مقابلہ نہیں کرسکتا وہ ہمیں اسی لئے کمزورکررہاہے کہ وہ ملک کوعدم استحکام کا شکارکرنا چاہتاہے مگر ہمیں ان تمام سازشوں کا مقابلہ کرناہوگا اورانہیں ناکام بناناہوگا آپس میں اتحاد ویکجہتی کی مثال بن کردکھاناہوگا۔ناہید حسین نے مزیدکہاکہ اس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ موجودہ حکومت کوبہت ہی گھمبیرصورتحال کا سامناہے اس لئے ملک کو مختلف قسم کے بحرانوں کابھی سامناہے۔امریکہ بہادراوراس کے اتحادی دہشت گردی کے تدارک کے لئے جوکہ کاروائیاں کررہے ہیں وہ محض مسلمانوں کا قتل عام کرنے اوران کی املاک پرقابض ہونے تک محدود ہے انہوں نے کہاکہ آج پاکستان میں نہ تو مسجد محفوظ رہی،نہ ہی مدرسہ،نہ امام بارگاہ اورنہ ہی چرچ جبکہ اسلام تو اقلتیوں کا بھی محافظ ہے ہم کلمہ پڑھتے تو نظر آتے ہیں لیکن درندگی ،سفاکیت کی مثالیں معاشرے میں پیش ہورہی ہیں وہ ملک جس کے قیام کے لئے ماؤں،بہنوں نے اپنی عصمتیں لٹائی،نوجوانوں کے لاشے کٹے مقصد صرف ایک تھاآزادی مگر کیسی آزادی ملی۔جہاں کوئی بھی محفوظ نہیں مجھ سمیت ہر کوئی نشانے پر ہے ان سازشوں کے پیچھے کون ہے؟اس پرکبھی غور نہیں کیاگیاپاکستان فرقہ واریت کی آگ میں جل رہاہے اس پاک سرزمین کولہولہوکیاجارہاہے جہاں اب مسجد،مدرسہ ،امام بارگااورچرچ بھی محفوظ نہیں رہے سانحہ راولپنڈی میں اہل وطن کو خون کے آنسو رلادیا۔ناہید حسین نے آخر میں کہاکہ کیاسنی اورشیعہ جو باہم کئی سالوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں وہ کسی بھی سطح پرایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں ہوسکتے بلکہ یہ تیسر ی قوت یا چند انتہاپسندوں کا فعل تھاجوکسی صورت اجتماعی سوچ کاعکاس قرارنہیں دیاجاسکتاہے افسوس اس بات کاہے کہ چند شدت پسندوں کا ٹولہ یا بیرونی ہاتھ ہر بار کامیاب کیوں ہوجاتاہے؟انہوں نے کہاکہ سانحہ بولٹن مارکیٹ کراچی جہاں سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں اندوہناک سانحے کے فوری بعد مارکیٹوں کو آگ لگادی گئی بالکل ایسے ہی ہمیں سانحہ راولپنڈی میں دیکھنے کو ملااور یہی قوت ملوث ہے یاپھرمذہبی عدم برداشت اگر اس میں مزید غفلت برتی گئی تو ملک میں دیگر بحرانات کے ساتھ ایک نیا بحران جنم لے گا۔ناہید حسین نے کہاکہ یہی کڑواسچ ہے کہ جب نان شینہ کی فکرانسان کو لے ڈوبے تو پھرکوئی بھی دشمن ملک ایسے لوگوں کواپنے مقاصد کے لئے باآسانی استعمال کرسکتاہے کراچی میں بھی ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان سنگین جرائم میں ملوث ہیں جنہیں کوئی ملازمت دینے کو تیارنہیں بہر حال وجہ کچھ بھی ہومزید مجرمانہ غفلت قوم اور معاشرے کے لئے تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

0 comments

Write Down Your Responses