کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی عقب سرکٹ ہاؤس بہاولپور موسومہ عادل ٹاؤن کی جعلی ملکیت فرد بدر نمبر8اور اس کے تابیع تمام انتقالات کی منسوخی کے حکم بعدالت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر بہاولپور کے خلاف بعدالت ایڈیشنل کمشنر بہاولپور میں دائر

بہاول پور (اقبال انجم ڈپٹی انویسٹی گیشن انچارج ) کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی عقب سرکٹ ہاؤس بہاولپور موسومہ عادل ٹاؤن کی جعلی ملکیت فرد بدر نمبر8اور اس کے تابیع تمام انتقالات کی منسوخی کے حکم بعدالت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر بہاولپور کے خلاف بعدالت ایڈیشنل کمشنر بہاولپور میں دائر کی گئیں تین اپیل بعنوان حاجی عطا محمد وغیرہ بنام غلام رسول وغیرہ ،کریم بخش وغیرہ بنام غلام رسول وغیرہ ،سید عنائیت حسین گیلانی وغیرہ بنام سرکار ،مسماۃ رقیہ بیگم وغیرہ کی سماعت 26نومبر کو ہوگی غلام رسول خان چیئرمین پاکستان عوامی احتساب پارٹی بہاولپور کی نشاندہی پر 128کنال 6مرلے اراضی حکومت پنجاب کے نام دوبارہ منتقل کی گئی ہے سرکاری اراضی پر قابض با اثر افراد نے محل نماء کوٹھیاں اور کمرشل بلڈنگز تعمیر کی ہوئی ہیں غلام رسول خان نے تحریری بحث تیار کی ہے جو 26نومبر کو عدالت میں پیش کی جائیگی تحریری بحث کے مطابق تحریری بحث / جواب /رپورٹ منجانب رسپانڈنٹ غلام رسول خان چیئرمین پاکستان عوامی احتساب پارٹی 77۔ویلکم چوک بہاولپور بابت اپیل ہائے بر خلاف حکم بعدالت جناب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر صاحب بہاولپور مورخہ 27-03-2013 ۔ من رسپانڈنٹ غلام رسول خان بحیثیت چیئرمین پاکستان عوامی احتساب پارٹی /محب وطن پاکستانی شہری معاشرے میں پائی جانیوالی برائیوں بالخصوص سرکاری و غیر سرکاری افراد کی ملی بھگت سے سرکاری وسائل کی لوٹ مار اور جعلی دستاویزات کی بنیاد پر دھوکہ دہی بد نیتی سے فراڈ کے ذریعہ سرکاری اراضی کو خورد بورد کرکے فروخت کرنے والوں کے خلاف ملکی مفاد میں سالہاسال سے عملی جدوجہد کر رہا ہے ۔مندرجہ بالا اپیلانٹ نے 3عدد اپیل بر خلاف حکم بعدالت جناب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر صاحب بہاولپور مورخہ 27-03-2013 دائر عدالت جناب والا کی ہیں ۔ حکم مورخہ 27-03-2013عدالت ماتحت جناب والا ذیل ہے’’ مختصراً واقعات اس طور پر ہیں کہ فرد بدر نمبر8موضع ڈیرہ عزت بہاولپور رقبہ تعدادی 128کنال 6مرلے بحق مسماۃ رقیہ بیگم وغیرہ کے نام بحوالہ انتقال نمبر180مورخہ 29-04-1946ہبہ زبانی منجانب عالی جناب حضور حاجی سر صادق محمد خان عباسی قوم داد پوترہ عباسی رقبہ تعدادی100کنال اور مسماۃ نزیر بیگم دختر کرم داد قوم جٹ سکنہ بہاولپور برقبہ تعدادی 28کنال میں ظاہر کرکے مورخہ 2-6-1991میں ظاہر کرکے منتقل کرنے کی اجازت ریونیو آفیسر حلقہ سرکل نے دی۔انتقال نمبر180کے تحت فرد بدر نمبر8تحت عمل درآمد ریکارڈ میں کیا گیا۔پٹواری حلقہ ٹی ایم اے رپورٹ حاصل کی گئی۔بروئے رپورٹ پٹواری ٹی ایم اے انتقال نمبر158مورخہ 19-06-1944رقبہ امپروؤمنٹ ٹرسٹ کا تھا۔بروئے نوٹیفکیشن 1-12-1969امپروؤمنٹ ٹرسٹ کو ٹی ایم اے میں mergeکردیا گیا۔اسسٹنٹ کمشنر بہاولپور سٹی کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا۔جس نے مورخہ 23-1-2013کو رپورٹ کی کہ رجسٹر حقداران زمین سال 1946-47کھاتہ نمبر34/1و انتقال نمبر180کے اوراق تبدیل کرکے ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے۔جسکی بناء پر فرد بدر نمبر8مرتب ہوئی ہے۔ہم نے پٹواری حلقہ ٹی ایم اے بہاولپور سٹی اور محافظ خانہ کے ریکارڈ اور رپورٹ اسسٹنٹ کمشنر کا ملاحظہ کیا ۔فرد بدر نمبر8جعلی انتقال مرتب کرکے تیار کی گئی ہے۔جہاں حقوق کا معاملہ ہو فرد بدر مرتب نہ کی جا سکتی ہے۔ عملہ فیلڈ نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔لینڈ ریونیو ایکٹ 163درستگی کے اختیارات کلکٹر ضلع کو حاصل ہے ۔لہٰذا حسب سفارش اسسٹنٹ کمشنر بہاولپور سٹی فرد بدر نمبر8اخراج کی اجازت دی جاتی ہے۔اس فرد بدر کے تابیع جتنے داخل خارج درج ہوکر منظور ہوئے ہیں ۔ان کے اخراج کی بھی اجازت دی جاتی ہے۔حکم 1-3-2013کلکٹرضلع صاحب ضلع بہاولپور کے تابیع حد براری اسسٹنٹ کمشنر صدر بہاولپور رپورٹ کے بعد تجاوزات کے متعلق کاروائی عمل میں لائی جائے گی اپیلانٹ نے خلاف قانون خلاف ریکارڈ /حالات و واقعات کے برعکس مسماۃ رقیہ بیگم وغیرہ کے نام پر جعل سازی دھوکہ دہی سرکاری ریکارڈ میں غیر قانونی ردو بدل کے نتیجے میں بدنیتی سے حاصل شدہ اراضی تعدادی128کنال 6مرلے کے جزوی حصہ پر بلا استحقاق انتقال وراثت یا خریدار اراضی کی حیثیت سے اپنی اپنی ناجائز تجاوزات پختہ تعمیرات کی شکل میں قائم کی ہوئی ہیں۔ نائب تحصیلدار حلقہ ڈیری عزت بہاولپور تقریباً45سال بعد حقوق ملکیت وغیرہ کی بابت فرد بدر نمبر8کی منظوری دینے کا اختیار نہیں رکھتے تھے ۔نائب تحصیلدار نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے فرد بدر منظور کی ۔ ریونیو آفیسر (نائب تحصیلدار ) اور عملہ فیلڈ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ریونیو ایکٹ کی دفعہ 163کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جعلی انتقال نمبر180کی بنیاد پر مسماۃ رقیہ بیگم وغیرہ کے نام پر بذریعہ فرد بدر نمبر8منتقل کی ہے ۔ حقوق ملکیت کی بابت فرد بدر کی اجازت ڈسٹرکٹ کلکٹر بہاولپور دینے کے مجاز تھے ۔ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر مرتب شدہ فرد بدر کی اجازت بعدالت ڈسٹرکٹ کلکٹر بہاولپور حاصل نہ کی گئی ہانتقالات نمبرز 178,179,181,182,183,کے اوراق اور لکھائی،رنگ ، دستخط عظیم بخش پٹواری اور انور علی نائب تحصیلدا ر حلقہ انتقال نمبر180سے مختلف ہیں۔ انتقال نمبر180جعلی مرتب کرکے شامل ریکارڈ میں کیا گیا ہے جعلی پرنٹنگ بھی دیگر کل صفحات سے ثابت شدہ ہے جعلی پرت کی تحریر میں پرنٹنگ کا فرق ہے۔ اصل ریکارڈ محافظ خانہ اور حلقہ پٹواری موضع ڈیرہ عزت سٹی بہاولپور سے طلب کرکے ملاحظہ کیا جائے جمعبندی سال 1946-47موضع ڈیرہ عزت تحصیل و ضلع بہاولپور عرصہ یکم جولائی 1943سے 30جون1947 تک کے منظور شدہ انتقالات کے عمل درآمد کے بعد تیار ہوئی جس میں دیگر منظور شدہ انتقالات کے ساتھ ساتھ انتقال نمبر158بائع حصول اراضی منظور شدہ مورخہ 19جون 1944بحق سرکار دولتمدار مقبوضہ پلاننگ ٹاؤن کمیٹی بہاولپور کا عمل در آمد بھی ہوئے انتقال نمبر158متذکرہ کے بالا کے ذریعہ دیگر رقبہ کے ساتھ رقبہ زیر کاشت با تفصیل نمبرات خسرہ مستطیل نمبر ۱۵/۱۰۵،۷۔۶/۴،۱۶۔۵/۵،۰۔۸/۶،۰۔۸/۷،۰۔۸/۱۴،۰۔۸/۱۵،۱۷۔۶/۱۶،۰۔۸/۱۷،۱۳۔۷/۲۴،۷۔۰/۲۴۔الف،۱۷۔۱ْ /۲۵،۸۔۰/۲۵الف،۷۔۰/۲۵ب مستطیل نمبر۱۶/ ۱۰۵ ،۲۔۵/۴،۶۔۱/۴الف،۴۔۲/۷،۴۔۰ /۷الف،۱۶۔۲/۱۸،۱۹۔۷/۱۹،۱۶۔۰/۲۰الف،۱۔۵/۲۲،۲۔۰/۲۳مستطیل نمبر۳/۱۲۵،۴۔۵/ ۱،۹۔۴/۲،۱۱۔۳/۳الف،۱۸۔۲/۴الف،۱۔۰/ ۵الف،۱۸۔۱/۵ب،۹۔۰ /۵د،۱۳۔۰/۶،۴۔۰/۶الف،۴۔۰/۶ج،۷۔۱/۷ب،۱۳۔۰/۸،۱۲۔۰/۹ ،۷۔۷/۱۰،۱۰۔۳/۱۱،۴۔۰/۲۰کل ۱۲۸کنال ۶مرلے بھی پلاننگ کمیٹی(حال پراونشل گورنمنٹ )بہاولپور کے نام منتقل ہونا منظور ہوا۔نمبرات خسرہ متذکرہ بالا جمع بندی سال ۴۷۔۱۹۴۶ میں کھاتہ نمبر۵۵سرکار دولتمدار کے تحت قائم شدہ کھتونی نمبر۲۱۱۔مستطیل نمبر۱۶/۱۰۵نمبرات خسرہ۴۔۴الف،۷۔۷الف،۱۸۔۱۹۔۲۰الف،۲۲۔۲۳،کھتونی نمبر۲۱۳۔مستطیل نمبر۱۵/۱۰۵نمبرات خسرہ،۴،۵،۶،۷،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۲۴،۲۴الف،۲۵،۲۵الف،۲۵ب ،کھتونی نمبر۲۱۴۔مستطیل نمبر۳/۱۲۵نمبرات خسرہ۱،۲،۳،۴الف،۵الف،۵ب،۵،۶،۶الف،۶ج،۷ب،۸،۹،۱۰،۱۱،۲۰۔جمع بندی سال 1946-47متذکرہ بالاکے ساتھ دیگر دستاویزات از قسم نسب شجرہ ،مالکان اور فہرست انتقالات بھی شامل ہوئے۔ علاوہ ازیں اس دور میں انتقال نمبر168تبادلہ زیر حکم مورخہ 5جون1944مصدرہ پرائم منسٹر صاحب سابق ریاست بہاولپور تابع چٹھی نمبر7348/73485منظور ہوا۔اور اپنی اصلی حالت میں جمع بندی سال 1946-47کا جز بنابعد ازاں جمع بندی ہائے دو چار سالہ سال 1950-51سال 1954-55،سال 1958-59،سال 1962-63، سال 1966-67،سال 1970-71،سال 1979-80،سال 1982-83 میں بھی یہ رقبہ زیر کاشت 128کنال 6مرلے بدستور پراونشل گورنمنٹ کے تحت زیر قبضہ پلاننگ ٹاؤن کمیٹی (حال پراونشل گورنمنٹ ) بہاولپور رہا۔ سال 1991میں مسٹر فاروق انور عباسی مرحوم ممبر نیشنل اسمبلی NA142 نے اپنے بھائی مسڑ جاوید انور عباسی مرحوم میئر میونسپل کارپوریشن بہاولپور اور مسٹر اللہ دتہ عباسی مرحوم ریٹائرڈ گرداورقانونگوئی محکمہ مال کی ملی بھگت اور رفاقت سے ذاتی ناجائز مالی مفاد حاصل کرتے ہوئے رقبہ زیر فرد بدر نمبر8تعدادی 128کنال 6ملکیہ پراونشل گورنمنٹ مقبوضہ ٹاؤن پلاننگ کمیٹی بہاولپور کو ہتھیانے کا منصوبہ تیار کیا۔ فراڈ منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے محکمہ مال کے سرکاری ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ ردو بدل کردیا۔ اس طرح 100کنال اپنی والدہ مسماۃ صاحبزادی رقیہ بیگم عباسی دختر الحاج سر صادق محمد خان صاحب مرحوم امیر بہاولپور قوم عباسی اور 28کنال رقبہ فراڈ میں شریک اللہ دتہ عباسی کیلئے اس کے بیٹے کی خوشدامن مسماۃ نزیر بیگم دختر کرم داد قوم جٹ کے نام منتقل کوادیا اور اس طرح کروڑوں روپے کی سرکاری اراضی خورد بورد کرلی گئی۔بعد ازاں صاحبزادہ فاروق انور عباسی مرحوم نے اپنی والدہ کی فوتیدگی پر بروئے انتقال نمبر1197اپنے اور دیگر وارثان کے نام وراثت درج و منظور کروائی اور رقبہ کی فروخت شروع کی گئی۔شریک جرم اللہ دتہ گرداور کیلئے بذریعہ خوشدامن بیٹا حقیقی انتقال نمبر1232بذریعہ ڈگری استقرار حق اپنی بہو مسماۃ طلعت پروین قوم جٹ کے نام منتقل کروالیا ۔ فراڈ سے ہتھیائے گئے رقبہ سرکار پر غیر قانونی طور پر کوٹھیاں وغیرہ اور کمرشل بلڈنگز تعمیر کرلی گئیں۔جعل ساز گروہ نے انتقال نمبر168پر درج ریونیو آفیسر کے حکم پر اوور رائٹنگ کے ذریعہ 128کنال 6مرلہ اراضی متذکرہ بالا بھی تبادلہ کے رقبہ میں شامل کردی تاکہ بعد ازاں یہ ثابت کرسکیں کہ رقبہ زیر اپیل ہائے جو کہ پلاننگ ٹاؤن کمیٹی نے انتقال نمبر158حصول اراضی کے ذریعہ حاصل کیا تھا۔وہ بذریعہ انتقال نمبر168تبادلہ میں واپس کردیا۔اس جعل سازی کے ذریعہ انتقال نمبر168پر جو اوور رائٹنگ کی گئی اس میں جعل سازوں نے چند نمبرات خسرہ یعنی ۲۲الف،۲۲،۲۳کو انگریزی ہندسوں میں درج کر بیٹھے تھے۔ جبکہ اس وقت کے اصل ریونیو آفیسر نے اس وقت کے رولز کے مطابق اپنے حکم میں تمام نمبرات خسرہ اردو ہندسوں میں درج کئے ۔جعل ساز گروہ نے بھی اوور راٹنگ کے ذریعہ رقبہ زیر کاشت کے نمبرات خسرہ اردو ہندسوں میں لکھنا شروع کئے لیکن پھر روانی میں بھول گیا اور اپنی عادی پریکٹس کے زیر اثر نمبرات خسرہ ۲۲الف ،۲۲اور ۲۳کو انگریزی میں لکھ گیا۔اور اپنے فراڈ پر خود ہی مہر ثبت کرگئے انتقال نمبر168پر مجرمانہ شکست و ریخت کے ذریعہ انتقال نمبر180کا جواز پیدا کیاگیا۔سال 1991میں 1946-47کی جمع بندی کا جز بنانے کیلئے انتقال نمبر180اس وقت کے پٹواری عظیم بخش کے جعلی دستخطوں کے ساتھ مورخہ 12جنوری 1946کی تاریخ ڈال کر درج کروایا گیا ۔اور انور علی ریونیو آفیسر کے جعلی دستخطوں کے ساتھ 29اپریل 1946ڈلوائی اور رقبہ مندرجہ اپیل ہائے کو منجانب الحاج سر صادق محمد خان صاحب مرحوم سابق امیر بہاولپور بحق مسماۃ صاحبزادی رقیہ بیگم عباسی دختر 100حصہ اور مسماۃ نزیر بیگم دختر کرم داد قوم جٹ 28حصہ بذریعہ ہبہ کھاتہ نمبر27کیلئے جعلی تیار کیا جانیوالا ورق دیگر قبل ازیں اوراق جمع بندی 1946-47سے مختلف بنیادی پروفارماپرنٹ کا حامل ہے۔خصوصی طور پر خانہ نمبر6میں اندراج ’’ نام کاشکار و احوال ‘‘ دیگر پروفارما پرنٹ سے مختلف ہیں اصل کھاتہ نمبر27ملکیتی الحاج سر صادق محمد خان صاحب مرحوم کو بٹہ دیکر 27/1کردیا گیا۔لیکن کھاتہ نمبر27کی کھتہونی کا نمبر بھی 69رہ گیا اور کھاتہ نمبر27/1کی کھتونی کا نمبر69رہ گیا اور یہ انتہائی اہم غلطی اور فراڈ کا بین ثبوت جعل ساز گروہ کے آڑھے آرہی ہے اصل جمع بندی 1946-47کے دیگر اوراق پر نمبرات خسرہ کی تعداد د10/15 سے زیادہ نہیں ہے ۔اور یہ کھلے کھلے لکھے ہوئے ہیں۔جبکہ جعلی کھاتہ نمبر27کے محاز ایک ہی وقر پر 29/30نمبرات خسرہ باریک باریک کرکے گھسیڑ دیئے گئے۔اور یہ جعلی تحریر اصل جمع بندی 1946-47میں نمبرات خسرہ کی تحریر اور روانی کے پیٹرن سے قطعی مختلف ہے۔ رقبہ متذکرہ بالا نمبرات خسرہ جمع بندی سال 1946-47میں کھاتہ نمبر27کی کی کھتونی نمبر69کے علاوہ کھتونی نمبر211کھتونی نمبر213کھتونی نمبر214میں بھی بدستور درج ہیں۔جو کہ مقبوضہ پلاننگ ٹاؤن کمیٹی بہاولپور (حال پراونشل گورنمنٹ ) کی ملکیت ہیں ۔ان نمبرات پر بذریعہ کچی پنسل کاٹے کے نشانات لگائے گئے ہیں۔جب یہ پنسل کے نشان مٹا دیئے جائیں تو یہ بالکل یہ واضح ہوجائیگا کہ مٹزکرہ بالا جعلی فترد بدر نمبر8کے تحت ٹرانسفر شدہ رقبہ سرکاری ملکیت ہے۔ جمعبندی 1946-47کی جلد کے شروع میں شجری نصب مالکان کی دستاویز لگی ہوئی ہیں۔جس میں کاندان نمبر26پر داد پوترا عباسی قوم درج ہے۔اور اس میں صرف ایک ہی مالک الحاج سر صادق محمد خان باسی مرحوم کا نام درج ہے۔اس شجرہ نصب مالکان میں عباسی قوم کے تحت مسماۃ صاحبزادی رقیہ بیگم مذکور کا نام درج کرنے کی غرض سے زبردستی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ مسماۃ صاحبزادی رقیہ بیگم کا نام شجرہ نصب مالکان مشولہ جمع بندی 1946-47میں independent boxکی بجائے دونوں خانوں کے درمیان جگہ کی گنجائش میں درج پایا گیا ہے۔مسماۃ صاحبزادی رقیہ بیگم عباسی کے والد اس وقت زندہ حیات تھے اس لئے قائدہ قانون کے مطابق مسماۃ مذکور کا نام سرخ قلم سے درج ہونا چاہئے تھا۔لیکن جعل ساز گروہ نے غلطی کرتے ہوئے یہ نام بقلم سیاہی درج کیا ہے۔کبکہ قریبی boxخاندان نمبر27میں دیگر شخص مولوی نظام الدین حیدر کا نام بقلم سرخ درج شدہ ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ اس کا والد اس وقت زندہ حیات تھا۔مسماۃ رقیہ بیگم عباسی کی شریک کھاتہ مسماۃ نزیر بیگم کی قوم جٹ ہے لیکن شجرہ نصب مذکور میں جٹ قوم کا کوئی خاندان درج نہیں ہے۔اور اس طرح جعل ساز گروہ مسماۃ نزیر بیگم دختر کرم داد قوم جٹ کی قوم کا نام شجرہ نصب مالکان میں درج نہ کر سکا اور اسی غلطی کی بناء ہر فراڈ کو خود ہی ثابت کروادیا۔ اور اسی غلطی سے پکڑا جا رہا ہے۔ یہ تمام جعل سازی اور فراڈ ثابت کرتا ہے کہ جمع بندی سال 1946-47کی تیاری اور ادخال کے وقت انتقال نمبر180کا کوئی وجود نہیں تھا۔اور اسی طرح سال 1946-47میں مسماۃ رقیہ بیگم عباسی اور مسماۃ نزیر بیگم قوم جٹ کے رقبہ نمبرات خسرہ مندرجہ بالا کی ملکیت ہونے کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔تمام تر فراڈ کا خیال مسٹر فاروق انور عباسی مرحوم وغیرہ کے زہن میں اس وقت آیا جب وہ سال 1991میں رکن نیشنل اسمبلی اور اسبھائی جاوید انور عباسی میونسپل کاپوریشن بہاولپور کا میئر تھا اور اللہ دتہ ریٹائرڈ گرداور محکمہ مال کے کام کو بخوبی جانتا تھا۔سال 1946-47سے لے کر سال 1982-83تک کی کسی بھی جمع بندی میں مسماۃ رقیہ بیگم عباسی اور مسماۃ نز یر بیگم قوم جٹ کی کسی بھی ملکیت کا اندراج نہیں ہے۔ رقبہ متزکرہ بالا پر بدستور سابق میونسل کارپوریشن کی بذریعہ پلاننگ ٹاؤن کمیٹی قبضہ رہا اور خانہ ملکیت میں سرکار دولمتدار (صوبائی گورنمنٹ )اندراج رہا انتقال نمبر168پر اوور رائٹنگ انتقال نمبر180کی جعلی تیاری اور جمعبندی 1946-47میں ناجائز ردو بدل کا واحد مقصد یہ تھا کہ سابق دیرینہ ریکارڈ میں خورد بورد فراڈ کا سہارا لے کر فرد بدر نمبر8تیار کروائی جائے اور اس طرح زاتی ملکیت بناکر رقبہ سرکار 128کنال 6مرلہ غصب کرلیا جائے۔چنانچہ پٹواری حلقہ موضع ڈیرہ عزت سے مورخہ 15مئی 1991کو غیر قانونی طور پر فرد بدر نمبر8بدیں مضمون تیار کروائی کہ انتقال نمبر180ہبہ زبانی منظور شدہ تھا۔اور اسکا عمل درآمد جمع بندی سال 1946-47میں ہوگیا تھا۔لیکن غلطی سے رقبہ مندرجہ بالا بعد ازاں کی جمع بندی ہائے میں درج ہونے سے رہ گیا اس لئے فرد نمبر8د رستگی ریکارڈ حقوق ملکیت غیر قانونی طور پر درج و منظور کروائی گئی اس ہوشربا فراڈ کے بارے میں ماضی میں تمام متعلقہ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ۔چیئرمین صاحب قومی احتساب بیورو اسلام آباد کی خدمت میں ایک شہری ملک محمد شفیع کی جانب سے ریفرنس معہ ٹھوس ثبوت کرپشن بھیجا گیا۔مگر جرم ثابرؤت ہونے کے باوجود با اثر رکم قومی اسمبلی مذکور کی مداخلت اثر و رسوخ کی وجہ سے کروڑوں روپے مالیت کا خورد بورد شدہ رقبہ انتظامی آڈر سے واگزار نہیں کروایا جاسکا اور نہ ہی جعل سازی فراڈ کی بنیاد پر ریکارڈ محکمہ مال میں ناجائز ردو بدل کے نیتیجے میں فرد بدر نمبر8منسوخ کی گئی تاہم اس فراڈ بارے من رسپانڈنٹ نے قومی احتساب بیورو NABسمیت انٹی کرپشن بہاولپور اور مجاز حکام کو درخواستیں گزاریں میڈیا میں بھی اس فراڈ بارے خبریں شائع ہوئیں۔ ڈائریکٹر انٹی کرپشن بہاولپور نے بھی جرم ثابت ہونے پر مذید قانونی کاروائی کیلئے مجاز حکام کو لیٹر لکھا ۔بعد ازاں من رسپانڈنٹ کی بار بار یاد دہانی پر بعد از محکمانہ انکوائری بذریعہ اسسٹنٹ کمشنر سٹی بہاولپور بعدالت جناب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر بہاولپور نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر تیار کروائی گئی اور منظور کروائی گئی فرد بدر نمبر8مطابق قانون خارج کرنے اور فرد بدر نمبر8کے تابیع تمام انتقالات کی منسوخی کا حکم جاری کیا اپیل کنندگان کا موقف درست تسلیم نہ ہے کیونکہ ان کے زیر قبضہ کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کو سرکاری ریکارڈ میں دھوکہ دہی جعل سازی anti-datedغیر قانونی کاروائی کے تحت ہتھیایا گیا تھا ۔عدالت ماتحت جناب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر ضلع بہاولپور نے قانون کے مطابق جعل سازی کے ذریعہ مرتب شدہ فرد بدر نمبر 8 کی اور فرد بدر نمبر 8کے تابیع تمام درج و منظور شدہ انتقالات کی منسوخی کا حکم متعلقہ افراد کے بارے میں تفصیلی انکوائری رپورٹ کے موصول ہونے پر جاری فرمایا ہے ۔اگر ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوجائے کہ سرکاری رقبہ جعل سازی دھوکہ بازی بلا استحقاق ریکارڈ میں غیر قانونی طور پر اوور راٹنگ غیر قانونی صفحات انتقال نمبر180شامل کیا جاناوغیرہ کے تحت ابتدائی جعل ساز گروہ مندرجہ بالا نے دانستہ طور پر بد نیتی سے ذاتی مالی مفاد کے تحت حاصل کیا ہے تو ایسی صورت میں ابتدائی جعل سازی سے تیار کروائی گئی فرد بدر نمبر8اور اس کے نتیجے میں تمام انتقالات کی منسوخی کیلئے موقع پر قابض مبینہ خریداران فراڈ شدہ سرکاری اراضی کو سماعت کرنا نا مناسب ہے ۔ معاملہ انتہائی سنگین جرم اور قیمتی سرکاری شہری رقبہ کے خورد بورد کا ہے لہٰذا فوری طور پر 3عدد اپیل وغیرہ خارج فرمائی جائیں اور مجاز حکام کو سرکاری رقبہ ناجائز قابضین سے واگزار کروانے اور جرم میں شریک تمام کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا حکم صادر فرمایا جائے۔تمام دستاویزی ثبوت کی نقول لف ہیں ۔اصل ریکارڈ بھی طلب فرمایا جائے کوئی بھی شہری مفاد سرکار میں کسی بھی کرپشن سے متعلق قانوناً اور شرعی طور پر حکام جاز کا آگاہ کرنے کا پابند ہے برائی کو روکنے میں کسی قسم کی کوئی ممانعت نہیں ہے ۔معاملہ زیر اپیل ہائے سراسر فراڈ کی بابت ہے اور فراڈ سے حاصل کی گئی کسی بھی قسم کی پراپرٹی خریدنے والے اپیلانٹ /وارثان مسماۃ صاحبزادی رقیہ بیگم عباسی اور مسماۃ نزیر بیگم دختر کرم داد قوم جٹ وغیرہ جائیداد سرکار کی نسبت خرید و فروخت کا استحقاق نہیں رکھتے اور نہ ہی موقع پر رقبہ128کنال 6مرلہ پر قابضین کی کوئی قانونی یا شرعی ملکیت کی حیثیت باقی رہ جاتی ہے ۔خریداران نے فراڈ سے حاصل کی گئی سرکاری اراضی خریدی ہے لہٰذا وہ اپنی ادا کی گئی رقم یا تعمیرات پر اٹھنے والے اخراجات کی واپسی کا مطالبہ اراضی فروخت کرنے والوں یا انکے لیگل وارثان سے کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں جناب ڈائریکٹر انٹی کرپشن بہاولپور نے تفصیلی انکوائری کے بعد جناب ایڈیشنل کمشنر صاحب (ریونیو ) بہاولپور کو مذید کاروائی کیلئے لیٹر بھیجا تھا استدعا کی جاتی ہے کہ تینوں اپیلیں خلاف قانون خلاف میرٹ دائر کی گئی ہیں خارج فرمائی جائیں۔ قرین انصاف ہوگا۔

0 comments

Write Down Your Responses