نہر فور آر میں 50فٹ چوڑا شگاف سینکڑوں ایکڑ پر تیار کھڑی فصل کپاس اور نئی کاشت کی گئی گندم کی فصل تباہ وبرباد

ہارون آباد (انویسٹی گیشن ٹیم)نہر فور آر میں 50فٹ چوڑا شگاف سینکڑوں ایکڑ پر تیار کھڑی فصل کپاس اور نئی کاشت کی گئی گندم کی فصل تباہ وبرباد۔کاشتکاروں کو ناقابل تلا فی نقصان کا خدشہ ۔نہر کو شگاف اوور فلو کی وجہ سے پڑا ۔زمیندارحضرات اپنی مدد آپ کے تحت شگاف پر کرنے میں مصروف ۔نہر ی تنظیم کا صدر مون خان عاکوک نہر کو بیلدار کے حوالے کرکے لاہور میں مقیم ۔نہر کا پرسان حال کوئی نہ ہے ۔رات کے وقت زمیندار حضرات موگے بند کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے نہر اوور فلو ر ہوئی نہر میں 226کیوسک کی بجائے صرف 200کیوسک پانی چھوڑا گیا تھا لیکن موگے بند ہونے کی وجہ سے نہر اوور فلوہوکر ٹوٹ گئی ۔گذشتہ 14سالوں سے یہ نہر اے کیٹیگری میں چل رہی تھی جب کہ اب اس نہر کو بی کیٹگیری میں شامل کر دیا گیا ہے جو کہ اس نہر کے زمینداروں کے ساتھ سخت زیادتی اور ظلم کے مترادف ہے،کاشتکاروں کا اظہار خیال۔ تفصیلات کے مطابق نہر فور کو موگہ نمبر 31کے قر یب اچانک 50فٹ چوڑا شگاف پڑ گیاجسکی وجہ سے کاشتکاروں کو لاکھوں روپے کا مالی خسارہ ہو گیا شگاف کی وجہ سے سینکروں ایکڑ کپاس کی تیار فصل اور گندم کی کاشت کی گئی نئی فصل زیر آب آکر تباہ وبرباد ہو گئی ہے موقع پر موجود زمیندار وں محمد رشید ،مقصود ،اشرف علی ،محمد علی،جمیل سکھیرا،نعیم سکھیرا ،احمد علی ودیگر نے کہا کہ اس نہر کوسیاست کی نذر کر دیا گیا جب پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو پانی ملتا نہیں اور جب پانی کی ضرورت نہ ہو تو نہر اوور فلو ہو کر ٹوٹ جاتی ہے نہر کو بی کلاس میں کر کے بھی زمینداروں کا گلا کاٹا گیا ہے نہری تنظیم ایف او کے بیلدار گھروں سے باہر ہی نہیں نکلتے گھر بیھٹتے تنخواہیں وصول کرتے ہیں جبکہ سرکاری صرف دو بیلدار ہے وہ اتنی بڑی نہر کو کیسے واچ کر سکتے ہیں ۔نہر میں شگاف پڑنے کی تمام تر ذمہ داری نہری تنظیم ایف او کی غفلت ہے ۔اور اب بھی ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ شگاف بند کیا ہے جبکہ ایس ڈی او رانا عباس بہاولپور اور اوور سئیر ملک محمد صادق بہاولنگر عدالت میں پیشی کے لئے گئے ہوئے ہیں یہاں پر صرف سرکاری دو بیلدار پہنچے ہیں جبکہ نہری تنظیم کا کوئی بھی بیلدار نہ آیا ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نہری تنظیمیں ختم کر کے نہروں کا نظام واپس محکمہ نہر کو ہی دیا جائے ۔

0 comments

Write Down Your Responses