ایل پی جی کی قیمتوں میں 46روپے فی کلو اضافہ کر کے غربت اور مہنگائی کی ستائی ہوئی خلق خدا پر ناگہانی آفت سے کم نہیں

ہارون آباد (انویسٹی گیشن ٹیم)گھریلو استعمال کے لئے ایل پی جی گیس کی قیمت میں اضافہ اور ادویات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے خاتمہ کے سلسلہ میں کئے جانے والے ایک سروے رپورٹ کے مطابق راحیلہ نامی ایک خاتون خانہ نے بتایا کہ انکا خاوند روزانہ اجرت کی بناء پر کام کرنے والا ایک فیکٹری مزدار ہے جنکی آمدنی سے روز مرہ گھریلو اخراجات کی تکمیل ہی بڑی مشکل سے ہوتی ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں 46روپے فی کلو اضافہ کر کے غربت اور مہنگائی کی ستائی ہوئی خلق خدا پر ناگہانی آفت سے کم نہیں ۔دو بچوں کے باپ اور بیمار بیوی کے خاوند خالد کباڑیہ نے کہا کہ ادویات غریب عوام کی وقت خرید کے مطابق نہیں تھی کہ حکومت نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غٖریبوں کو بے موت مارنے کے عمل کاآغاز کردیا ہے ۔ایک طرف حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ختم کیا ہے تو دوسری جانب ایل پی جی کی قیمتوں میں ظالمانہ حد تک اضافہ کردیا ہے ۔پہلے لوگ علاج کے بغیر مر رہے تھے اب کھانا پکانا بھی آسان نہ رہا ہے ۔رانا کاشف ،طارق ،فریاد ،شبیر شاہ ،محمد سرور و دیگر کا کہنا ہے کہ جن افراد نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے وہ لوگ غریب عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ نہ ہیں اگر حکومت نے یہ اضافہ واپس نہ لیا تو ثابت ہوجائیگا کہ غریب عوام ووٹوں سے بر سر اقتدار آنے والے حکمران بھی غریب عوام کے مسائل سے آگاہ ہی نہیں رکھتے ۔عوام نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کو ظالمانہ حرکت قرار دیا ہے ۔

0 comments

Write Down Your Responses